بغداد،11؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا) شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے خلاف امریکی قیادت میں سرگرم بین الاقوامی عسکری اتحاد کے کمانڈر اور امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل شین میکفارلینڈ نے بتایا، ہمارے عسکری اندازوں کے مطابق گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران ہم دشمن (داعش) کے قریب 25ہزار جنگجوؤں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ اگر اس سے قبل ہلاک کر دیے جانے والے اس گروپ کے دیگر قریب 20ہزار جہادیوں کو بھی شامل کیا جائے تو گزشتہ دو برسوں کے دوران آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کے تقریبا? 45ہزار عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل میکفارلینڈ نے یہ بات امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات عراقی دارالحکومت بغداد سے ایک ویڈیو کال میں بتائی۔اس دوران شین میکفارلینڈ نے یہ بھی کہا کہ ان کی رائے میں اس وقت داعش کے پاس جتنے جہادی باقی بچے ہیں، ان کی تعداد 15ہزار اور 30ہزار کے درمیان بنتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت داعش کی قیادت کو اپنی صفوں میں نئے جہادی بھرتی کرنے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
داعش کے خلاف بین الاقوامی عسکری اتحاد کے اس امریکی کمانڈر کے بقول اب اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں اس کے اگلی صفوں میں موجود جہادیوں کی تعداد کافی کم ہو چکی ہے۔ ان عسکریت پسندوں کی صرف تعداد ہی کم نہی ہوئی بلکہ ان کی جہادی کارروائیوں کی اہلیت اور معیار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
دو برسوں میں اتحادی جنگی طیارے داعش کے خلاف شام اور عراق میں ساڑھے چودہ ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکے ہیں
لیفٹیننٹ جنرل میکفارلینڈ نے صحافیوں کو بتایا، آج یہ جہادی اتنے مؤثر طریقے سے اپنی کارروائیاں نہیں کر پا رہے، جتنی کامیابی سے وہ ماضی میں اپنے مسلح حملے اور لڑائیاں کرتے تھے۔ اس طرح ہمارے لیے انہیں نشانہ بنانا مزید آسان ہو چکا ہے۔
عسکری ماہرین کی رائے میں دو سال قبل امریکی سربراہی میں داعش کے خلاف عسکری اتحاد کی جنگی کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اب تک یہ دہشت گرد تنظیم شام اور عراق میں اپنے زیر قبضہ اور داعش کی نام نہاد خلافت کا حصہ قرار دیے جانے والے مجموعی علاقے میں سے قریب 25 ہزار مربع کلومیٹر یا ساڑھے نو ہزار مربع میل سے زائد علاقے سے محروم ہو چکی ہے۔عراق میں داعش اب تک اپنے زیر قبضہ جتنے علاقے سے محروم ہو چکی ہے، وہ وہاں اس کے زیر اثر مجموعی رقبے کا قریب50فیصد اور شام میں اس کے کنٹرول میں رہنے والے مجموعی علاقے کا تقریبا20فیصد بنتا ہے۔گزشتہ دو برسوں کے دوران اتحادی ملکوں کے جنگی طیارے داعش کے خلاف شام اور عراق میں مجموعی طور پر ساڑھے چودہ ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکے ہیں۔